Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے

انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے گرچہ زردی رنگ کی بھی ہجر ہی سے ہے ولے منھ مرا دیکھو ہو کیا یہ کوفت جی پر دیکھیے اب کے گل ہم بے پروں کی اور چشمک زن ہے زور اور دل اپنا بھی جلتا ہے بہت پر دیکھیے آتے ہو جب جان یاں آنکھوں میں آ رہتی ہے آہ دیکھیے ہم کو تو یوں بیمار و مضطر دیکھیے اشک پر سرخی ابھی سے ہے تو آگے ہم نشیں رنگ لاوے کیسے کیسے دیدئہ تر دیکھیے دیر و کعبہ سے بھی ٹک جھپکی نہ چشم شوخ یار شوق کی افراط سے تاچند گھر گھر دیکھیے مر رہے یوں صیدگہ کی کنج میں تو حسن کیا عشق جب ہے تب گلے کو زیر خنجر دیکھیے برسوں گذرے خاک ملتے منھ پر آئینے کے طور کیا غضب ہے آنکھ اٹھاکر ٹک تو ایدھر دیکھیے دیدنی ہے وجد کرنا میر کا بازار میں یہ تماشا بھی کسو دن تو مقرر دیکھیے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR