Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دوری میں اس کی گور کنارے ہم آرہے

دوری میں اس کی گور کنارے ہم آرہے جی رات دن جنھوں کے کھپیں ان میں کیا رہے اس آفتاب حسن کے ہم داغ شرم ہیں ایسے ظہور پر بھی وہ منھ کو چھپا رہے اب جس کے حسن خلق پہ بھولے پھریں ہیں لوگ اس بے وفا سے ہم بھی بہت آشنا رہے مجروح ہم ہوئے تو نمک پاشیاں رہیں ایسی معاش ہووے جہاں کیا مزہ رہے مرغان باغ سے نہ ہوئی میری دم کشی نالے کو سن کے وقت سحر دم ہی کھا رہے چھاتی رکی رہے ہے جو کرتے نہیں ہیں آہ یاں لطف تب تلک ہی ہے جب تک ہوا رہے کشتے ہیں ہم تو ذوق شہیدان عشق کے تیغ ستم کو دیر گلے سے لگا رہے گاہے کراہتا ہے گہے چپ ہے گاہ سست ممکن نہیں مریض محبت بھلا رہے آتے کبھو جو واں سے تو یاں رہتے تھے اداس آخر کو میر اس کی گلی ہی میں جا رہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR