Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے

ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے کیا رفتگی سے میری تم گفتگو کرو ہو کھویا گیا نہیں میں ایسا جو کوئی پاوے چھاتی کے داغ یکسر آنکھوں سے کھل رہے ہیں دیکھیں ابھی محبت کیا کیا ہمیں دکھاوے ہیں پائوں اس کے نازک گل برگ سے بجا ہے عاشق جو رہگذر میں آنکھوں کے تیں بچھاوے یوں خاک منھ پہ مل کر کب تک پھرا کروں میں یارب زمیں پھٹے تو یہ روسیہ سماوے اے کاش قصہ میرا ہر فرد کو سنا دیں تا دل کسو سے اپنا کوئی نہ یاں لگاوے ترک بتاں کا مجھ سے لیتے ہیں قول یوں ہی کیا ان سے ہاتھ اٹھائوں گو اس میں جان جاوے عاشق کو مر گئے ہی بنتی ہے عاشقی میں کیا جان جس کی خاطر شرمندگی اٹھاوے جی میں بگڑ رہا ہے تب میر چپ ہے بیٹھا چھیڑو ابھی تو کیا کیا باتیں بنا کے لاوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR