Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے

یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے کیونکر نہ چپکے چپکے یوں جان سے گذریے کہیے بتھا جو اس سے باتوں کی راہ نکلے زردی رنگ و رونا دونوں دلیل کشتن خوش طالعی سے میری کیا کیا گواہ نکلے اے کام جاں ہے تو بھی کیا ریجھ کا پچائو مر جایئے تو منھ سے تیرے نہ واہ نکلے خوبی و دلکشی میں صدچند ہے تو اس سے تیرے مقابلے کو کس منھ سے ماہ نکلے یاں مہر تھی وفا تھی واں جور تھے ستم تھے پھر نکلے بھی تو میرے یہ ہی گناہ نکلے غیروں سے تو کہے ہے اچھی بری سب اپنی اے یار کب کے تیرے یہ خیر خواہ نکلے رکھتے تو ہو مکدر پر اس گھڑی سے ڈریو جب خاک منھ پہ مل کر یہ روسیاہ نکلے اک خلق میر کے اب ہوتی ہے آستاں پر درویش نکلے ہے یوں جوں بادشاہ نکلے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR