Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے

سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے مارگیری سے زمانے کی نہ دل کو جمع رکھ چال دھیمی اس کی ایسی ہے کہ جوں اجگر چلے کیونکے ان کا کوئی وارفتہ بھلا ٹھہرا رہے جنبش ان پلکوں کو ہوتی ہے کہ جوں خنجر چلے اب جو وہ سرمایۂ جاں یاں تلک آیا تو کیا راہ تکتے تکتے اس کی ہم تو آخر مر چلے میں نہ کہتا تھا دم بسمل مرے مت آئیو لوٹتے دامن کی اپنے زہ لہو میں بھر چلے چھوڑ جانا جاں بہ لب ہم کو کہاں کا ہے سلوک گھر کے گھر یاں بیٹھے جاتے ہیں تم اٹھ کر گھر چلے صاف سارا شہر اس انبوہ خط میں لٹ گیا کچھ نہیں رہتا ہے واں جس راہ ہو لشکر چلے پائوں میں مارا ہے تیشہ میں نے راہ عشق میں ہو سو ہو اب گوکہ آرا بھی مرے سر پر چلے لائے تھے جاکر ابھی تو اس گلی میں سے پکار چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کے پھر کیدھر چلے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR