Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے

کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے ناتوانی سے اگر مجھ میں نہیں ہے جی تو کیا عشق جو چاہے تو مردے سے بھی اپنا کام لے پہلوے عاشق نہ بستر سے لگے تو ہے بجا دل سی آفت ہو بغل میں جس کے کیا آرام لے اب دل نالاں پھر اس زلف سیہ میں جاچکا آج یہ بیمار دیکھیں کس طرح سے شام لے شاخ گل تیری طرف جھکتی جو ہے اے مست ناز چاہتی ہے تو بھی میرے ہاتھ سے اک جام لے دل کی آسائش نہیں امکان زلف یار میں یہ شکار مضطرب ہے دم نہ زیر دام لے عزت اے پیر مغاں کچھ حاجیوں کی ہے ضرور آئے ہیں تیرے کنے ہم جامۂ احرام لے کیا بلا مفتی کا لونڈا سر چڑھا ہے ان دنوں آوے ہے گویا کہ مجھ پر قاضی کا اعلام لے ہم نشیں کہہ مت بتوں کی میر کو تسبیح ہے کام کیا اس ذکر سے ان کو خدا کا نام لے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR