Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کتنے روزوں سے نہ سونے کے ہیں نے کھانے کے

کتنے روزوں سے نہ سونے کے ہیں نے کھانے کے دل جو یہ ہے تو ہم آرام نہیں پانے کے ہائے کس خوبی سے آوارہ رہا ہے مجنوں ہم بھی دیوانے ہیں اس طور کے دیوانے کے عزم ہے جزم کہ اب کے حرکت شہر سے کر ہوجے دل کھول کے ساکن کسو ویرانے کے آہ کیا سہل گذر جاتے ہیں جی سے عاشق ڈھب کوئی سیکھ لے ان لوگوں سے مرجانے کے جمع کرتے ہو جو گیسوے پریشاں کو مگر ہو تردد میں کوئی تازہ بلا لانے کے کاہے کو آنکھ چھپاتے ہو یہی ہے گر چال ایک دو دن میں نہیں ہم بھی نظر آنے کے ہاتھ چڑھ جائیو اے شیخ کسو کے نہ کبھو لونڈے سب تیرے خریدار ہیں میخانے کے خاک سے چرخ تلک اب تو رکا جاتا ہے ڈول اچھے نہیں کچھ جان کے گھبرانے کے لے بھی اے غیرت خورشید کہیں منھ پہ نقاب مقتضی دن نہیں اب منھ کے یہ دکھلانے کے لالہ و گل ہی کے مصروف رہو ہو شب و روز تم مگر میر جی سید ہو گلستانے کے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR