Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے

برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR