Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے

وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے ہو برافروختہ وہ بت جو مئے احمر سے آگ نکلے ہے تماشے کے تئیں پتھر سے ڈھب کچھ اچھا نہیں برہم زدن مژگاں کا کاٹ ڈالے گا گلا اپنا کوئی خنجر سے تھا نوشتے میں کہ یوں سوکھ کے مریے اس بن استخواں تن پہ نمودار ہیں سب مسطر سے یوں تو دس گز کی زباں ہم بھی بتاں رکھتے ہیں بات کو طول نہیں دیتے خدا کے ڈر سے سیر کرنے جو چلے ہے کبھو وہ فتنہ خرام شہر میں شور قیامت اٹھے ہے ہر گھر سے عشق کے کوچے میں پھر پائوں نہیں رکھنے کے ہم اب کے ٹل جاتی ہے کلول یہ اگر سر پر سے مہر کی اس سے توقع غلطی اپنی تھی کہیں دلداری ہوئی بھی ہے کسو دلبر سے کوچۂ یار ہے کیا طرفہ بلاخیز مقام آتے ہیں فتنہ و آشوب چلے اودھر سے ساتھ سونا جو گیا اس کا بہت دل تڑپا برسوں پھر میر یہ پہلو نہ لگے بستر سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR