Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے

برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے تڑپے اسیر ہوتے جو ہم یک اٹھا غبار سوجھا نہ ہم کو دیر تلک چشم دام سے دنبال ہر نگاہ ہے صد کاروان اشک برسے ہے چشم ابر بڑی دھوم دھام سے محو اس دہان تنگ کے ہیں کوئی کچھ کہو رہتا ہے ہم کو عشق میں کام اپنے کام سے یوسفؑ کے پیچھے خوار زلیخا عبث ہوئی کب صاحبی رہی ہے مل ایسے غلام سے لڑکے ہزاروں جھولی میں پتھر لیے ہیں ساتھ مجنوں پھرا ہے کاہے کو اس ازدحام سے وہ ناز سے چلا کہیں تو حشر ہوچکے پھر بحث آپڑے گی اسی کے خرام سے جھک جھک سلام کرنے سے سرکش ہوا وہ اور ہو بیٹھے ناامید جواب سلام سے وے دن گئے کہ رات کو یک جا معاش تھی آتا ہے اب تو ننگ اسے میرے نام سے سرگرم جلوہ بدر ہو ہر چند شب کو لیک کب جی لگیں ہیں اپنے کسو ناتمام سے دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR