Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے

کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے یوں کب ہمارے آنسو پچھیں ہیں کہ تونے شوخ دیکھا کبھو ادھر مژئہ نیم باز سے خاموش رہ سکے نہ تو بڑھ کر بھی کچھ نہ کہہ سر شمع کا کٹے ہے زبان دراز سے اب جا کسو درخت کے سائے میں بیٹھیے اس طور پھریے کب تئیں بے برگ و ساز سے یہ کیا کہ دشمنوں میں مجھے ساننے لگے کرتے کسو کو ذبح بھی تو امتیاز سے مانند شمع ٹپکے ہی پڑتے ہیں اب تو اشک کچھ جلتے جلتے ہو گئے ہیں ہم گداز سے شاید کہ آج رات کو تھے میکدے میں میر کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR