Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے

کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں رکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے کیا خوبی اس کے منھ کی اے غنچہ نقل کریے تو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے دہاں سے آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو حیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے دلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے کی شست و شو بدن کی جس دن بہت سی ان نے دھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب ہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے اتنی بھی بدمزاجی ہر لحظہ میر تم کو الجھائو ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR