Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے

اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے زخم اس کے ہاتھ کے جو سینے پہ ہیں نمایاں چھاتی لگے رہیں گے زیر زمیں بھی سارے ہیں بدمزاج خوباں پر کس قدر ہیں دلکش پائے کہاں گلوں نے یہ مکھڑے پیارے پیارے بیٹھیں ہیں رونے کو تو دریا ہی رو اٹھیں ہیں جوش و خروش یہ تھے تب ہم لگے کنارے لاتے نہیں ہو مطلق سر تم فرو خدا سے یہ ناز خوبرویاں بندے ہیں ہم تمھارے کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے چشمک زنی میں شب کو یوں ہی نہیں ہیں تارے لگ کر گلے نہ سوئے اس منھ پہ منھ نہ رکھا جی سے گئے ہم آخر ان حسرتوں کے مارے بیتابی ہے دنوں کو بے خوابی ہے شبوں کو آرام و صبر دونوں مدت ہوئی سدھارے آفاق میں جو ہوتے اہل کرم تو سنتے ہم برسوں رعد آسا بیتاب ہو پکارے جل بجھیے اب تو بہتر مانند برق خاطف جوں ابر کس کے آگے دامن کوئی پسارے ہم نے تو عاشقی میں کھویا ہے جان کو بھی صدقے ہیں میر جی کے وے ڈھونڈتے ہیں وارے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR