Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی

تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم پر وہ آتا ہے تو آجاتا ہے جی ہائے اس کے شربتی لب سے جدا کچھ بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی اب کے اس کی راہ میں جو ہو سو ہو یا دب ہی آتا ہے یا جاتا ہے جی کیا کہیں تم سے کہ اس شعلے بغیر جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی حیف ہے اس میں رہا جاتا ہے جی رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر سو تو اب آپھی ڈھہا جاتا ہے جی آسماں شاید ورے کچھ آگیا رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی کاشکے برقع رہے اس رخ پہ میر منھ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR