Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اب تو صبا چمن سے آتی نہیں ادھر کچھ

اب تو صبا چمن سے آتی نہیں ادھر کچھ ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ ذوق خبر میں ہم تو بے ہوش ہو گئے تھے کیا جانے کب وہ آیا ہم کو نہیں خبر کچھ یہ طشت و تیغ ہے اب یہ میں ہوں اور یہ تو ہے ساتھ میرے ظالم دعویٰ تجھے اگر کچھ وے دن گئے کہ بے غم کوئی گھڑی کٹے تھی تھمتے نہیں ہیں آنسو اب تو پہر پہر کچھ ان اجڑی بستیوں میں دیوار و در ہیں کیا کیا آثار جن کے ہیں یہ ان کا نہیں اثر کچھ واعظ نہ ہو معارض نیک و بد جہاں سے جو ہوسکے تو غافل اپنا ہی فکر کر کچھ آنکھوں میں میری عالم سارا سیاہ ہے اب مجھ کو بغیر اس کے آتا نہیں نظر کچھ ہم نے تو ناخنوں سے منھ سارا نوچ ڈالا اب کوہکن دکھاوے رکھتا ہے گر ہنر کچھ تلوار کے تلے ہی کاٹی ہے عمر ساری ابروے خم سے اس کے ہم کو نہیں ہے ڈر کچھ گہ شیفتہ ہیں مو کے گہ بائولے ہیں رو کے احوال میر جی کا ہے شام کچھ سحر کچھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR