Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کھینچتا ہے دلوں کو صحرا کچھ

کھینچتا ہے دلوں کو صحرا کچھ ہے مزاجوں میں اپنے سودا کچھ دل نہیں جمع چشم تر سے اب پھیلتا سا چلا یہ دریا کچھ شہر میں حشر کیوں نہ برپا ہو شور ہے میرے سر میں کیسا کچھ ویسے ظاہر کا لطف ہے چھپنا کم تماشا نہیں یہ پردہ کچھ خلق کی کیا سمجھ میں وہ آیا آپ سے تو گیا نہ سمجھا کچھ یاس سے مجھ کو بھی ہو استغنا گو نہ ہو اس کو میری پروا کچھ کچھ نہ دیکھا تھا ہم نے پر تو بھی آنکھ میں آئی ہی نہ دنیا کچھ اب تو بگڑے ہی جاتے ہیں خوباں رنگ صحبت نہیں ہے اچھا کچھ کچھ کہو دور ہے بہت وہ شوخ اپنے نزدیک تو نہ ٹھہرا کچھ وصل اس کا خدا نصیب کرے میر دل چاہتا ہے کیا کیا کچھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR