Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ

یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ یار کا وہ ناز اپنا یہ نیاز دیکھیے ہوتا ہے کیونکر یوں نباہ دین میں اس کافر بے رحم کے اجر اک رکھتا ہے خون بے گناہ پتھروں سے سینہ کوبی میں نے کی دل کے ماتم میں مری چھاتی سراہ مول لے چک مجھ کو آنکھیں موند کر دیکھ تو قیمت ہے میری اک نگاہ لذت دنیا سے کیا بہرہ ہمیں پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ روٹھ کر کیا آپ سے ملنے میں لطف ہووے وہ بھی تو کبھو ٹک عذر خواہ ضبط بہتیرا ہی کرتے ہیں ولے آہ اک منھ سے نکل جاتی ہے گاہ اس کے رو کے رفتہ ہی آئے ہیں یاں آج سے تو کچھ نہیں یہ جی کی چاہ دیکھ رہتے دھوکے اس رخسار کے دایہ منھ دھوتے جو کہتی ماہ ماہ شیخ تونے خوب سمجھا میر کو واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR