Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

یوں کب ہوا ہے پیارے پاس اپنے تم بلالو

یوں کب ہوا ہے پیارے پاس اپنے تم بلالو دو باتیں گر لکھوں میں دل کو ٹک اک لگالو اب جو نصیب میں ہے سو دیکھ لوں گا میں بھی تم دست لطف اپنا سر سے مرے اٹھا لو جنبش بھی اس کے آگے ہونٹوں کو ہو تو کہیو یوں اپنے طور پر تم باتیں بہت بنا لو دو نعروں ہی میں شب کے ہو گا مکان ہو کا سن رکھو کان رکھ کر یہ بات بستی والو نام خدا ستم میں تم نامور تو ہو ہی پر ایک دو کو یوں ہی للہ مار ڈالو زلف اور خال و خط کا سودا نہیں ہے اچھا یارو بنے تو سر سے جلد اس بلا کو ٹالو یاران رفتہ ایسے کیا دورتر گئے ہیں ٹک کرکے تیزگامی اس قافلے کو جالو بازاری سارے وے ہی کہتے ہیں راز بیٹھے جن کو ہمیں کہا ہے تم منھ سے مت نکالو یوں رفتہ اور بے خود کب تک رہا کروگے تم اب بھی میر صاحب اپنے تئیں سنبھالو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR