Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مطرب نے پڑھی تھی غزل اک میر کی شب کو

مطرب نے پڑھی تھی غزل اک میر کی شب کو مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو پھرتے ہیں چنانچہ لیے خدام سلاتے درویشوں کے پیراہن صد چاک قصب کو کیا وجہ کہیں خوں شدن دل کی پیارے دیکھو تو ہو آئینے میں تم جنبش لب کو برسوں تئیں جب ہم نے تردد کیے ہیں تب پہنچایا ہے آدم تئیں واعظ کے نسب کو ہے رحم کو بھی راہ دل یار میں بارے جاگہ نہیں یاں ورنہ کہیں اس کے غضب کو کیا ہم سے گنہگار ہیں یہ سب جو موئے ہیں کچھ پوچھو نہ اس شوخ کی رنجش کے سبب کو دل دینے سے اس طرح کے جی کاش کے دیتے یوں کھینچے کوئی کب تئیں اس رنج و تعب کو حیرت ہے کہ ہے مدعی معرفت اک خلق کچھ ہم نے تو پایا نہیں اب تک ترے ڈھب کو ہو گا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میر کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR