Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جوں غنچہ میر اتنے نہ بیٹھے رہا کرو

جوں غنچہ میر اتنے نہ بیٹھے رہا کرو گل پھول دیکھنے کو بھی ٹک اٹھ چلا کرو جوں نے نہ زارنالی سے ہم ایک دم رہیں تم بند بند کیوں نہ ہمارا جدا کرو سوتے کے سوتے یوں ہی نہ رہ جائیں ہم کبھو آنکھیں ادھر سے موند نہ اپنی لیا کرو سودے میں اس کے بک گئے ایسے کئی ہزار یوسفؑ کا شور دور ہی سے تم سنا کرو ہوتے ہو بے دماغ تو دیکھو ہو ٹک ادھر غصے ہی ہم پہ کاش کے اکثر رہا کرو یہ اضطراب دیکھ کہ اب دشمنوں سے بھی کہتا ہوں اس کے ملنے کی کچھ تم دعا کرو دم رکتے ہیں سیاہی مژگاں ہی دیکھ کر سرمہ لگا کے اور ہمیں مت خفا کرو پورا کریں ہیں وعدے کو اپنے ہم آج کل وعدے کے تیں وصال کے تم بھی وفا کرو دشمن ہیں اپنے جی کے تمھارے لیے ہوئے تم بھی حقوق دوستی کے کچھ ادا کرو اپنا چلے تو آپھی ستم سب اٹھایئے تم کون چاہتا ہے کسو پر جفا کرو ہر چند ساتھ جان کے ہے عشق میر لیک اس درد لاعلاج کی کچھ تو دوا کرو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR