Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو

ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو کرتی ہے عشق بازی کو بے مائگی وبال کیا کھیلے وہ جوا جسے کچھ آسرا نہ ہو ہجر بتاں میں طبع پراگندہ ہی رہی کافر بھی اپنے یار سے یارب جدا نہ ہو آزار کھینچنے کے مزے عاشقوں سے پوچھ کیا جانے وہ کہ جس کا کہیں دل لگا نہ ہو کھینچا ہے آدمی نے بہت دور آپ کو اس پردے میں خیال تو کر ٹک خدا نہ ہو رک جائے دم گر آہ نہ کریے جہاں کے بیچ اس تنگناے میں کریں کیا جو ہوا نہ ہو طرزسخن تو دیکھ ٹک اس بدمعاش کی دل داغ کس طرح سے ہمارا بھلا نہ ہو شکوہ سیاہ چشمی کا سن ہم سے یہ کہا سرمہ نہیں لگانے کا میں تم خفا نہ ہو جی میں تو ہے کہ دیکھیے آوارہ میر کو لیکن خدا ہی جانے وہ گھر میں ہو یا نہ ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR