Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ٹک لطف سے ملاکر گو پھر کبھو کبھو ہو

ٹک لطف سے ملاکر گو پھر کبھو کبھو ہو سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو کیا کیا جوان ہم نے دنیا سے جاتے دیکھے اے عشق بے محابا دنیا ہو اور تو ہو ایسے کہو گے کچھ تو ہم چپکے ہو رہیں گے ہر بات پر کہاں تک آپس میں گفتگو ہو کیا ہے جواب ظالم پرسش کے روز کہیو جو روسیاہ یہ بھی واں آ کے روبرو ہو پرخوں ہمارے دل سے کتنی ہے تو مشابہ شاید کلی تجھے بھی اس گل کی آرزو ہو خط اس کے پشت لب کا ساکت کرے گا تجھ کو کہیو اگر تفاوت اس میں بقدرمو ہو کھولے تھے بال کن نے ہنگام صبح اپنے آئی ہے اے صبا تو ایسی جو مشک بو ہو درویشی سے بھی اپنی نکلے ہے میرزائی نقش حصیر تن پر ایسے ہیں جوں اتو ہو مت التیام چاہے پھر دل شکستگاں سے ممکن نہیں کہ شیشہ ٹوٹا ہوا رفو ہو کہتے ہو کانپتا ہوں جوں بید عاشقی سے تم بھی تو میر صاحب کتنے خلاف گو ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR