Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو

برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو پھر برسوں تئیں پیارے جی سے نہیں جاتے ہو آتے ہو کبھو یاں تو ہم لطف نہیں پاتے سو آفتیں لاتے ہو سو فتنے اٹھاتے ہو رہتے ہو تم آنکھوں میں پھرتے ہو تمھیں دل میں مدت سے اگرچہ یاں آتے ہو نہ جاتے ہو ایسی ہی زباں ہے تو کیا عہدہ برآ ہوں گے ہم ایک نہیں کہتے تم لاکھ سناتے ہو خوش کرنے سے ٹک ایسے ناخوش ہی رکھا کریے ہنستے ہو گھڑی بھر تو پہروں ہی رلاتے ہو اک خلق تلاشی ہے تم ہاتھ نہیں لگتے لڑکے تو ہو پر سب کو ٹالے ہی بتاتے ہو مدت سے تمھارا کب ایدھر کو تہ دل ہے کاہے کو تصنع سے یہ باتیں بناتے ہو کچھ عزت کفر آخر اے دیر کے باشندو مجھ سہل سے کو کیوں تم زنار بندھاتے ہو آوارہ اسے پھرتے پھر برسوں گذرتے ہیں تم جس کسو کو اپنے ٹک پاس بٹھاتے ہو دل کھول کے مل چلیے جو میر سے ملنا ہے آنکھیں بھی دکھاتے ہو پھر منھ بھی چھپاتے ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR