Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گل برگ سے ہیں نازک خوبی پا تو دیکھو

گل برگ سے ہیں نازک خوبی پا تو دیکھو کیا ہے جھمک کفک کی رنگ حنا تو دیکھو ہر بات پر خشونت طرزجفا تو دیکھو ہر لمحہ بے ادائی اس کی ادا تو دیکھو سائے میں ہر پلک کے خوابیدہ ہے قیامت اس فتنۂ زماں کو کوئی جگا تو دیکھو بلبل بھی گل گئے پر مرکر چمن سے نکلی اس مرغ شوق کش کی ٹک تم وفا تو دیکھو طنزیں عبث کرو ہو غش رہنے پر ہمارے دو چار دن کسو سے دل کو لگا تو دیکھو ہونا پڑے ہے دشمن ہر گام اپنی جاں کا کوچے میں دوستی کے ہر کوئی آ تو دیکھو پیری میں مول لے ہے منعم حویلیوں کو ڈھہتا پھرے ہے آپھی اس پر بنا تو دیکھو ڈوبی ہے کشتی میری بحر عمیق غم میں بیگانے سے کھڑے ہو تم آشنا تو دیکھو آئے جو ہم تو ان نے آنکھوں میں ہم کو رکھا اہل ہوس سے کوئی اودھر کو جا تو دیکھو ہے اس چمن میں وہ گل صد رنگ محو جلوہ دیکھو جہاں وہی ہے کچھ اس سوا تو دیکھو اشعار میر پر ہے اب ہائے وائے ہر سو کچھ سحر تو نہیں ہے لیکن ہوا تو دیکھو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR