Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں گوہرگوش کسو کا نہیں جی سے جاتا آنسو موتی سے مرے منھ پہ ڈھلے جاتے ہیں یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم سب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں بارحرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ شجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے ایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انھیں سے پوچھو دل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں گر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل ہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں پُرغباری جہاں سے نہیں سدھ میر ہمیں گرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR