Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

لذت سے درد کی جو کوئی آشنا نہیں

لذت سے درد کی جو کوئی آشنا نہیں سو لطف کیوں نہ جمع ہوں اس میں مزہ نہیں ہر آن کیا عوض ہے دعا کا بدی ولے تم کیا کرو بھلے کا زمانہ رہا نہیں روے سخن جو ہے تو مرا چشم دل کی اور تم سے خدانخواستہ مجھ کو گلہ نہیں تلوار ہی کھنچا کی ترے ہوتے بزم میں بیٹھا ہے کب تو آ کے کہ فتنہ اٹھا نہیں مل دیکھے ایسے دلبر ہرجائی سے کوئی بے جا نہیں ہے دل جو ہمارا بجا نہیں ہو تم جو میرے حیرتی فرط شوق وصل کیا جانو دل کسو سے تمھارا لگا نہیں آئینے پر سے ٹک نہیں اٹھتی تری نظر اس شوق کش کے منھ سے تجھے کچھ حیا نہیں رنگ اور بو تو دلکش و دلچسپ ہیں کمال لیکن ہزار حیف کہ گل میں وفا نہیں تیرستم کا تیرے ہدف کب تلک رہوں آخر جگر ہے لوہے کا کوئی توا نہیں ان نے تو آنکھیں موند لیاں ہیں ادھر سے واں ایک آدھ دن میں دیکھیے یاں کیا ہے کیا نہیں اٹھتے ہو میر دیر سے تو کعبے چل رہو مغموم کاہے کو ہو تمھارے خدا نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR