Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں

اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں صنم پرستی میں اے راہباں نہ کی تقصیر تم اہل صومعہ سے پوچھو وے مسلماں ہیں کریں انھوں پہ بھلا کس طرح نظر گستاخ بتان شہر ہمارے تو دین و ایماں ہیں چمن میں جاکے بھرو تم گلوں سے جیب و کنار ہم اپنے دل ہی کے ٹکڑوں سے گل بداماں ہیں رہے ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں رہا ہے کون سا پردہ ترے ستم کا شوخ کہ زخم سینہ ہمارے سبھی نمایاں ہیں شبیہ شکل سا ہے حال ضبط عشق کے بیچ کہ رنگ روپ ہے سب کچھ ولیک بے جاں ہیں بنے تو عزت عشاق میں نہ کر تقصیر کہ ایسے لوگ پیارے عزیز مہماں ہیں جو ابر دشت میں برسے تو ہم اڑاویں خاک وہ میر آب ہے ہم یاں کے میر ساماں ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR