Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں

باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں تم تو اب آنے کو پھر کہہ چلے ہو کل لیکن بے کل ایسا ہی رہا شب تو یہ بیمار کہاں دل کی خواہش ہو کسو کو تو کمی دل کی نہیں اب یہی جنس بہت ہے پہ خریدار کہاں خاک یاں چھانتے ہی کیوں نہ پھرو دل کے لیے ایسا پہنچے ہے بہم پھر کوئی غم خوار کہاں دم زدن مصلحت وقت نہیں اے ہمدم جی میں کیا کیا ہے مرے پر لب اظہار کہاں شیخ کے آنے ہی کی دیر ہے میخانے میں پھر سبحہ سجادہ کہاں جبہ و دستار کہاں ہم سے ناکس تو بہت پھرتے ہیں جی دیتے ولے زخم تیغ اس کے اٹھانے کا سزاوار کہاں تونے بھی گرد رخ سرخ نکالا خط سبز باغ شاداب جہاں میں گل بے خار کہاں خبط نے عقل کے سر رشتے کیے گم سارے اب جو ڈھونڈو تو گریباں میں کوئی تار کہاں گوکہ گردن تئیں یاں کوئی لہو میں بیٹھے ہاتھ اٹھاتا ہے جفا سے وہ ستم گار کہاں ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر یہ نہ جانا کہ لگی ظلم کی تلوار کہاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR