Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں

جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں برپا ہوا ہجوم سے اک حشر تازہ واں آیا جہاں کہیں قدم یار درمیاں اس کام جاں میں ہم میں ہوا ہے حجاب چشم یوں رہیے آہ کب تئیں دیوار درمیاں سو بار اس سے فتنے جہاں میں اٹھے ولے دیکھی نہ ہم نے وہ کمر اک بار درمیاں کیا کہیے آہ جی کو قیامت ہے انتظار آتا نہ کاش وعدئہ دیدار درمیاں رکھ دی ہے کتنے روزوں سے تلوار یار نے کوئی نہیں ہے خوں کا سزاوار درمیاں ثابت ہے ساری خلق کے اوپر کہ تو ہے ایک حاجت نہیں جو آوے یہ تکرار درمیاں آیا کیے دماغ کے اعضا میں یہ فتور ٹھہرے قشون کیا نہیں سردار درمیاں بازار میں دکھائی ہے کب ان نے جنس حسن جو بک نہیں گئے ہیں خریدار درمیاں دیکھیں چمن جو سینۂ پر داغ سے بڑھیں بیداد ہے یہ قطعۂ گلزار درمیاں کھنچنے نہ پائی اس کی تو تلوار بھیڑ میں مارا گیا عبث یہ گنہگار درمیاں اب کے جنوں کے بیچ گریباں کا ذکر کیا کہیے بھی جو رہا ہو کوئی تار درمیاں کتنے دنوں سے میر کا نالہ نہیں سنا شاید نہیں ہے اب وہ گرفتار درمیاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR