Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گو جان کر تجھے سب تعبیر کر رہے ہیں

گو جان کر تجھے سب تعبیر کر رہے ہیں ہم لوگ تیرے اوپر سو جی سے مر رہے ہیں کھنچتا چلا ہے اب تو تصدیق کو تصور ہر لحظہ اس کے جلوے پیش نظر رہے ہیں نکلے ہوس جو اب بھی ہو وارہی قفس سے شائستۂ پریدن دوچار پر رہے ہیں کل دیکھتے ہمارے بستے تھے گھر برابر اب یہ کہیں کہیں جو دیوار و در رہے ہیں کیا آج ڈبڈبائی دیکھو ہو تم یہ آنکھیں جوں چشمہ یوں ہی برسوں ہم چشم تر رہے ہیں نے غم ہے ہم کو یاں کا نے فکر کچھ ہے واں کا صدقے جنوں کے کیا ہم بے درد سر رہے ہیں پاس ایک دن بھی اپنا ان نے نہیں کیا ہے ہم دور اس سے بے دم دو دو پہر رہے ہیں کیا یہ سراے فانی ہے جاے باش اپنی ہم یاں مسافرانہ آکر اتر رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ چھیڑے یک بار پھوٹ بہیے ہم پکے پھوڑے کے اب مانند بھر رہے ہیں اس میکدے میں جس جا ہشیار چاہیے تھے رحمت ہے ہم کو ہم بھی کیا بے خبر رہے ہیں گو راہ عشق میں ہو شمشیر کے دم اوپر وسواس کیا ہے ہم تو جی سے گذر رہے ہیں چل ہم نشیں بنے تو ایک آدھ بیت سنیے کہتے ہیں بعد مدت میر اپنے گھر رہے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR