Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کوچے میں تیرے میر کا مطلق اثر نہیں

کوچے میں تیرے میر کا مطلق اثر نہیں کیا جانیے کدھر کو گیا کچھ خبر نہیں ہے عاشقی کے بیچ ستم دیکھنا ہی لطف مر جانا آنکھیں موند کے یہ کچھ ہنر نہیں کب شب ہوئی زمانے میں جو پھر ہوا نہ روز کیا اے شب فراق تجھی کو سحر نہیں ہر چند ہم کو مستوں سے صحبت رہی ہے لیک دامن ہمارا ابر کے مانند تر نہیں گلگشت اپنے طور پہ ہے سو تو خوب یاں شائستۂ پریدن گلزار پر نہیں کیا ہو جے حرف زن گذر دوستی سے آہ خط لے گیا کہ راہ میں پھر نامہ بر نہیں آنکھیں تمام خلق کی رہتی ہیں اس کی اور مطلق کسو کو حال پہ میرے نظر نہیں کہتے ہیں سب کہ خون ہی ہوتا ہے اشک چشم راتوں کو گر بکا ہے یہی تو جگر نہیں جاکر شراب خانے میں رہتا نہیں تو پھر یہ کیا کہ میر جمعے ہی کی رات گھر نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR