Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آج ہمارے گھر آیا تو کیا ہے یاں جو نثار کریں

آج ہمارے گھر آیا تو کیا ہے یاں جو نثار کریں الا کھینچ بغل میں تجھ کو دیر تلک ہم پیار کریں خاک ہوئے برباد ہوئے پامال ہوئے سب محو ہوئے اور شدائد عشق کی رہ کے کیسے ہم ہموار کریں زردی رخ رونا ہر دم کا شاہد دو جب ایسے ہوں چاہت کا انصاف کرو تم کیونکر ہم انکار کریں باغ میں اب آجاتے ہیں تو صرفہ اپنا چپ میں ہے خوبی بیاں کر تیری ہم کیا گل کو گلے کا ہار کریں شیوہ اپنا بے پروائی نومیدی سے ٹھہرا ہے کچھ بھی وہ مغرور دبے تو منت ہم سو بار کریں ہم تو فقیر ہیں خاک برابر آ بیٹھے تو لطف کیا ننگ جہاں لگتا ہو ان کو واں وے ایسی عار کریں پتا پتا گلشن کا تو حال ہمارا جانے ہے اور کہے تو جس سے اے گل بے برگی اظہار کریں کیا ان خوش ظاہر لوگوں سے ہم یہ توقع رکھتے تھے غیر کو لے کر پاس یہ بیٹھیں ہم کو گلیوں میں خوار کریں میر جی ہیں گے ایک جو آئے کیا ہم ان سے درد کہیں کچھ بھی جو سن پاویں تو یہ مجلس میں بستار کریں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR