Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

امید دل دہی تھی جن سے وے آزار کرتے ہیں

امید دل دہی تھی جن سے وے آزار کرتے ہیں بہت پرہیز کر ہم سے ہمیں بیمار کرتے ہیں کوئی ہم سا بھی اپنی جان کا دشمن کہیں ہو گا بھری مجلس میں بیٹھے عشق کے اقرار کرتے ہیں نشاں دے ہیں جہاں اس کا وہ ہرجائی نہیں ملتا محلے کے ہمیں اب لوگ یوں ہی خوار کرتے ہیں حجاب ناکسی سے مر گئے روپوش کب تک ہوں جنھوں سے عار تھی ہم کو سو ہم سے عار کرتے ہیں چھپا لیتا ہے مجھ سے چاند سا منھ وہ خدا جانے سخن ساز اس کنے جاجا کے کیا اظہار کرتے ہیں الف کی رمز اگر سمجھا اٹھا دل بحث علمی سے اسی اک حرف کو برسوں سے ہم تکرار کرتے ہیں بہت ہے تیز آب جدول شمشیر خوباں کا اسے پھر پار کردیں ہیں یہ جس پر وار کرتے ہیں انوکھا تو کہ یاں فکر اقامت تجھ کو ہے ورنہ سب اس دلکش جگہ سے رخت اپنا بار کرتے ہیں بلا آفت ہے کچھ دل پر کہ ایسا رنگ ہے ان کا کسو بے مہر کے تیں میر شاید پیار کرتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR