Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آپ اس جنس کے ہیں ہم بھی خریداروں میں

آپ اس جنس کے ہیں ہم بھی خریداروں میں پگڑی جامے بکے جس کے لیے بازاروں میں باغ فردوس کا ہے رشک وہ کوچہ لیکن آدمی ایک نہیں اس کے ہواداروں میں ایک کے بھی وہ برے حال میں آیا نہ کبھو لوگ اچھے تھے بہت یار کے بیماروں میں دوستی کس سے ہوئی آنکھ کہاں جاکے لڑی دشمنی آئی جسے دیکھتے ہی یاروں میں ہائے رے ہاتھ جہاں چوٹ پڑی دو ہی کیا الغرض ایک ہے وہ شوخ ستمگاروں میں کشمکش جس کے لیے یہ ہے شمار دم یہ ان نے ہم کو نہ گنا اپنے گرفتاروں میں کیسی کیسی ہے عناصر میں بھی صورت بازی شعبدے لاکھوں طرح کے ہیں انھیں چاروں میں مشفقو ہاتھ مرے باندھو کہ اب کے ہر دم جا الجھتے ہیں گریبان کے دو تاروں میں حسب قسمت سبھوں نے کھائے تری تیغ کے زخم ناکس اک نکلے ہمیں خوں کے سزاواروں میں اضطراب و قلق و ضعف ہیں گر میر یہی زندگی ہو چکی تو اپنی ان آزاروں میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR