Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

رکھا کر اشک افشاں چشم فرصت غیر فرصت میں

رکھا کر اشک افشاں چشم فرصت غیر فرصت میں کہ مل جاتا ہے ان جوئوں کا پانی بحر رحمت میں سنبھالے سدھ کہاں سر ہی فرو لاتا نہیں ہرگز وگرنہ مان جاتا تھا کہاں تھوڑی سی منت میں گئے دن متصل جانے کے اس کی اور اٹھ اٹھ کر تفاوت ہو گیا اب تو بہت پائوں کی طاقت میں تحمل ہوسکا جب تک بدن میں تاب و طاقت تھی قیامت اب گذر جاتی ہے جی پر ایک ساعت میں عجب کیا ہے جو یاران چمن کو ہم نہ پہچانیں رہائی اتفاق اپنی پڑی ہے ایک مدت میں سلاتا تیغ خوں میں گر نہ میرے تو قیامت تھی اٹھا تھا روز محشر کا سا فتنہ رات صحبت میں کوئی عمامہ لے بھاگا کنھوں نے پیرہن پھاڑا بہت گستاخیاں یاروں نے کیں واعظ کی خدمت میں ملا تیوری چڑھائے تو لگا ابرو بھی خم کرنے موثر کچھ ہوا سر مارنا محراب طاعت میں قدم پر رکھ قدم اس کے بہت مشکل ہے مر جانا سرآمد ہو گیا ہے میر فن مہر و الفت میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR