Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں

کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں پھر جو یاد آتا ہے وہ چپکا سا رہ جاتا ہوں میں داغ ہوں کیونکر نہ میں درویش یارو جب نہ تب بوریا پوشوں ہی میں وہ شعلہ خو پاتا ہوں میں ہجر میں اس طفل بازی کوش کے رہتا ہوں جب جا کے لڑکوں میں ٹک اپنے دل کو بہلاتا ہوں میں ہوں گرسنہ چشم میں دیدار خوباں کا بہت دیکھنے پر ان کے تلواریں کھڑا کھاتا ہوں میں آب سب ہوتا ہوں پاکر آپ کو جیسے حباب یعنی اس ننگ عدم ہستی سے شرماتا ہوں میں ایک جاگہ کب ٹھہرنے دے ہے مجھ کو روزگار کیوں تم اکتاتے ہو اتنا آج کل جاتا ہوں میں ہے کمال عشق پر بے طاقتی دل کی دلیل جلوئہ دیدار کی اب تاب کب لاتا ہوں میں آسماں معلوم ہوتا ہے ورے کچھ آگیا دور اس سے آہ کیسا کیسا گھبراتا ہوں میں بس چلے تو راہ اودھر کی نہ جائوں لیک میر دل مرا رہتا نہیں ہر چند سمجھاتا ہوں میں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR