Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں

کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں کشتۂ انداز کس کا تھا نہ جانا وہ جواں لے رہے تھے کچھ ملک اک نعش قربانی کے تیں چشم کم سے اشک خونیں کو نہ دیکھو زینہار ڈھونڈتے ہیں مردم اس یاقوت سیلانی کے تیں طائران خوش معاش اس باغ کے ہم تھے کبھو اب ترستے ہیں قفس میں اک پر افشانی کے تیں ہے جہان تنگ سے جانا بعینہ اس طرح قتل کرنے لے چلیں ہیں جیسے زندانی کے تیں یہ کہاں بنت العنب سے اٹھتی ہیں کیفیتیں ہونٹوں سے کیا اس کے نسبت ایسی مستانی کے تیں دل جو پانی ہو تو آئینہ ہے روے یار کا خانہ آبادی سمجھ اس خانہ ویرانی کے تیں فہم میں میرے نہ آیا پردہ در ہے طفل اشک روئوں کیا اے ہم نشیں میں اپنی نادانی کے تیں کچھ نظر میں نے نہ کی جی کے زیاں پر اپنے ہائے دوست میں رکھے گیا اس دشمن جانی کے تیں جب جلے چھاتی بہت تب اشک افشاں ہو نہ میر کیا جو چھڑکا اس دہکتی آگ پر پانی کے تیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR