Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سو خونچکاں گلے ہیں لب سے مری زباں تک

سو خونچکاں گلے ہیں لب سے مری زباں تک جی رندھ گیا ہے ظالم اب رحم کر کہاں تک ملنے میں میرے گاہے ٹک تن دیا نہ ان نے حاضر رہا ہوں میں تو اپنی طرف سے جاں تک ہر چند میں نے سر پر اس رہ کی خاک ڈالی لیکن نہ پہنچیں آنکھیں اس پائوں کے نشاں تک ان ہڈیوں کا جلنا کوئی ہما سے پوچھو لاتا نہیں ہے منھ وہ اب میرے استخواں تک اس کی گلی کے سگ سے کی ہے موافقت میں اس راہ سے بھی پہنچیں شاید کہ پاسباں تک ابربہار نے شب دل کو بہت جلایا تھا برق کا چمکنا خاشاک آشیاں تک اس مہ کے گوش تک تو ہرگز نہیں پہنچتی گو آہ بے سرایت جاتی ہے آسماں تک قید قفس میں مرنا کب شوق کا ہے مانع پہنچیں گے مشت پر بھی اڑ کر یہ گلستاں تک ہونا جہاں کا اپنی آنکھوں میں ہے نہ ہونا آتا نظر نہیں کچھ جاوے نظر جہاں تک جاتی ہیں خط کے پیچھے جوں مہر آنکھیں میری اب کارشوق میرا پہنچا ہے میر یاں تک

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR