Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اے رشک برق تجھ سے مشکل ہے کار عاشق

اے رشک برق تجھ سے مشکل ہے کار عاشق اک جھمکے میں کہاں پھر صبر و قرار عاشق خاک سیہ سے یکساں تیرے لیے ہوا ہوں تو بھی تو ایک شب ہو شمع مزار عاشق اے بحر حسن ہووے یہ آگ سرد ٹک تب جوں موج ہو لبالب تجھ سے کنار عاشق دلخواہ کوئی دلبر ملتا تو دل کو دیتے گر چاہنے میں ہوتا کچھ اختیار عاشق پلکوں کی اس کی کاوش ہر دم جب ایسی ہووے مشکل کہ جی سے جاوے پھر خار خار عاشق کیا جانے محو جو ہو اپنے ہی رو و مو کا گذرے ہے کس طرح سے لیل و نہار عاشق خواری کا موجب اپنی ہے اضطراب ہر دم دل سمجھے تو رہے بھی کچھ اعتبار عاشق آنکھوں تلے سے سرکے وہ چشم مست ٹک تو جاتا دکھائی دیوے رنج و خمار عاشق کیا بوجھ بھاری سے میں ناکام کاٹتا ہوں دنیا سے ہے نرالا کچھ کاروبار عاشق اس پردے میں غم دل کہتا ہے میر اپنا کیا شعر و شاعری ہے یارو شعار عاشق

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR