Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جب بٹھاویں مجھے جلاد جفاکار کے پاس

جب بٹھاویں مجھے جلاد جفاکار کے پاس تو بھی ٹک آن کھڑا ہوجو گنہگار کے پاس دردمندوں سے تمھیں دور پھرا کرتے ہو کچھ پوچھنے ورنہ سبھی آتے ہیں بیمار کے پاس چشم مست اپنی سے صحبت نہ رکھاکر اتندی بیٹھیے بھی تو بھلا مردم ہشیار کے پاس خندہ و چشمک و حرف و سخن زیرلبی کہیے جو ایک دو افسون ہوں دلدار کے پاس داغ ہونا نظر آتا ہے دلوں کا آخر یہ جو اک خال پڑا ہے ترے رخسار کے پاس خط نمودار ہوئے اور بھی دل ٹوٹ گئے یہ بلا نکلی نئی زلف شکن دار کے پاس در گلزار پہ جانے کے نصیب اپنے کہاں یوں ہی مریے گا قفس کی کبھو دیوار کے پاس کیا رکھا کرتے ہو آئینے سے صحبت ہر دم ٹک کبھو بیٹھو کسی طالب دیدار کے پاس دل کو یوں لیتے ہو کھٹکا نہیں ہونے پاتا تربیت پائی ہے تم نے کسو عیار کے پاس مورچہ جیسے لگے تنگ شکر کو آکر خط نمودار ہے یوں لعل شکر بار کے پاس جس طرح کفر بندھا ہے گلے اسلام کہاں یوں تو تسبیح بھی ہم رکھتے ہیں زنار کے پاس ہم نہ کہتے تھے نہ مل مغبچوں سے اے زاہد ابھی تسبیح دھری تھی تری دستار کے پاس نارسائی بھی نوشتے کی مرے دور کھنچی اتنی مدت میں نہ پہنچا کوئی خط یار کے پاس اختلاط ایک تمھیں میر ہی غم کش سے نہیں جب نہ تب یوں تو نظر آتے ہو دوچار کے پاس

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR