Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر

اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر جب تک شگاف تھے کچھ اتنا نہ جی رکے تھا پچھتائے ہم نہایت سینے کے چاک سی کر قصہ نہیں سنا کیا یوسفؑ ہی کا جو تونے اب بھائیوں سے چندے تو گرگ آشتی کر ناسازی و خشونت جنگل ہی چاہتی ہے شہروں میں ہم نہ دیکھا بالیدہ ہوتے کیکر کچھ آج اشک خونیں میں نے نہیں چھپائے رہ رہ گیا ہوں برسوں لوہو کو اپنے پی کر کس مردنی کو اس بن بھاتی ہے زندگانی بس جی چکا بہت میں اب کیا کروں گا جی کر حرف غلط کو سن کر درپے نہ خوں کے ہونا جو کچھ کیا ہے میں نے پہلے اسے سہی کر دن رات کڑھتے کڑھتے میں بھی بہت رکا ہوں جو تجھ سے ہوسکے سو اب تو بھی مت کمی کر رہتی ہے سو نکوئی رہتا نہیں ہے کوئی تو بھی جو یاں رہے تو زنہار مت بدی کر تھی جب تلک جوانی رنج و تعب اٹھائے اب کیا ہے میر جی میں ترک ستمگری کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR