Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آخر دکھائی عشق نے چھاتی فگار کر

آخر دکھائی عشق نے چھاتی فگار کر تصدیع کھینچی ہم نے یہ کام اختیار کر اس باعث حیات سے کیا کیا ہیں خواہشیں پر دم بخود ہی رہتے ہیں ہم جی کو مار کر ٹک سامنے ہوا کہ نہ ایماں نہ دین و دل کافر کو بھی نہ اس سے الٰہی دوچار کر جا شوق پر نہ جا تن زار و نزار پر اے ترک صید پیشہ ہمیں بھی شکار کر وہ سخت باز دائو میں آتا نہیں ہے ہائے کس طور جی کو ہم نہ لگا بیٹھیں ہار کر ہم آپ سے گئے تو گئے پر بسان نقش بیٹھا تو روز حشر تئیں انتظار کر کن آنکھوں دیکھیں رنگ خزاں کے کہ باغ سے گل سب چلے ہیں رخت سفر اپنا بار کر جل تھل بھریں نہ جب تئیں دم تب تئیں نہ لیں ہم اور ابر آج اٹھے ہیں قرار کر اک صبح میری چھاتی کے داغوں کو دیکھ تو یہ پھول گل بھی زور رہے ہیں بہار کر مرتے ہیں میر سب پہ نہ اس بیکسی کے ساتھ ماتم میں تیرے کوئی نہ رویا پکار کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR