Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

طاقت نہیں ہے جان میں کڑھنا تعب ہے اور

طاقت نہیں ہے جان میں کڑھنا تعب ہے اور بے لطفیاں کرو ہو یہ تس پر غضب ہے اور ہر چند چپ ہوں لیک مرا حال ہے عجب احوال پرسی تو نہ کرے تو عجب ہے اور آنکھ اس کی اس طرح سے نہیں پڑتی ٹک ادھر اب خوب دیکھتے ہیں تو چتون کا ڈھب ہے اور کیا کہیے حال دل کا جدائی کی رات میں گذرے ہے کب کہانی کہے سے یہ شب ہے اور دل لے چکے دکھا کے رخ خوب کو تبھی اب منھ چھپا جو بیٹھے یہ حسن طلب ہے اور اس دل لگے کے روگ کو نسبت مرض سے کیا اپنا یہ جلتے رہنا ہے کچھ اور تب ہے اور طور اگلے تیرے ملتے نہیں اس طرح سے ٹک وہ اور کچھ تھا ہم سے تو پیارے یہ اب ہے اور کیا بات تیری اے ہمہ عیاری و فریب آنکھیں کہیں ہیں اور سخن زیر لب ہے اور اسباب مرگ کے تو مہیا ہیں سارے میر شاید کہ زندگانی کا اپنی سبب ہے اور

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR