Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آنے کی اپنے کیا کہیں اس گلستاں کی طرح

آنے کی اپنے کیا کہیں اس گلستاں کی طرح ہر گام پر تلف ہوئے آب رواں کی طرح کیا میں ہی چھیڑ چھیڑ کے کھاتا ہوں گالیاں اچھی لگے ہے سب کو مرے بد زباں کی طرح آگے تو بے طرح نہ کبھو کہتے تھے ہمیں اب تازہ یہ نکالی ہے تم نے کہاں کی طرح یہ شور دل خراش کب اٹھتا تھا باغ میں سیکھے ہے عندلیب بھی ہم سے فغاں کی طرح کرتے تو ہو ستم پہ نہیں رہنے کے حواس کچھ اور ہو گئی جو کسو خستہ جاں کی طرح نقشہ الٰہی دل کا مرے کون لے گیا کہتے ہیں ساری عرش میں ہے اس مکاں کی طرح مرغ چمن نے زور رلایا سبھوں کے تیں میری غزل پڑھی تھی شب اک روضہ خواں کی طرح لگ کر گلے سے اس کے بہت میں بکا کیا ملتی تھی سرو باغ میں کچھ اس جواں کی طرح جو کچھ نہیں تو بجلی سے ہی پھول پڑ گیا ڈالی چمن میں ہم نے اگر آشیاں کی طرح یہ باتیں رنگ رنگ ہماری ہیں ورنہ میر آجاتی ہے کلی میں کبھو اس دہاں کی طرح

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR