Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ

آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ جی لیے ان نے ہزاروں کے یوں ہی پیار کے بیچ حیف وہ کشتہ کہ سو رنج سے آوے تجھ تک اور رہ جائے تری ایک ہی تلوار کے بیچ گرچہ چھپتی نہیں ہے چاہ پہ رہ منکر پاک جی ہی دینا پڑے ہے عشق کے اقرار کے بیچ نالہ شب آوے قفس سے تو گل اب اس پہ نہ جا یہی ہنکار سی ہے مرغ گرفتار کے بیچ انس کرتا تو ہے وہ مجھ کو خردباختہ جان جیت میں اپنی نکالی ہے اسی ہار کے بیچ چال کیا کبک کی اک بات چلی آتی ہے لطف نکلے ہیں ہزاروں تری رفتار کے بیچ تو جو جاتا ہے چمن میں تو تماشے کے لیے موسم رفتہ بھی پھر آوے ہے گلزار کے بیچ داغ چیچک نہ اس افراط سے تھے مکھڑے پر کن نے گاڑی ہیں نگاہیں ترے رخسار کے بیچ گھٹّے شمشیرزنی سے کف نازک میں ہیں یہ جگرداری تھی کس خوں کے سزاوار کے بیچ توبہ صد بار کہ مستی میں پرو ڈالے ہیں دانے تسبیح کے میں رشتۂ زنار کے بیچ حلقۂ گیسوے خوباں پہ نہ کر چشم سیاہ میر امرت نہیں ہوتا دہن مار کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR