Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جھوٹ ہر چند نہیں یار کی گفتار کے بیچ

جھوٹ ہر چند نہیں یار کی گفتار کے بیچ دیر لیکن ہے قیامت ابھی دیدار کے بیچ کس کی خوبی کے طلبگار ہیں عزت طلباں خرقے بکنے کو چلے آتے ہیں بازار کے بیچ خضر و عیسیٰ کے تئیں نام کو جیتا سن لو جان ہے ورنہ کب اس کے کسو بیمار کے بیچ اگلے کیا پیچ تمھارے نہ تھے بس عاشق کو بال جو اور گھر سنے لگے دستار کے بیچ عشق ہے جس کو ترا اس سے تو رکھ دل کو جمع زندگی کی نہیں امید اس آزار کے بیچ ہم بھی اب ترک وفا ہی کریں گے کیا کریے جنس یہ کھپتی نہیں آپ کی سرکار کے بیچ دیدنی دشت جنوں ہے کہ پھپھولے پا کے میں نے موتی سے پرو رکھے ہیں ہر خار کے بیچ پردہ اٹھتا ہے تو پھر جان پر آ بنتی ہے خوبی عاشق کی نہیں عشق کے اظہار کے بیچ اس زمیں میں غزل اک اور بھی موزوں کر میر پاتے ہیں زور ہی لذت تری گفتار کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR