Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت

دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت دل کی ویسی ہے خرابی کثرت اندوہ سے جیسے رہ پڑتا ہے دشمن کا کہیں لشکر بہت ہم نشیں جا بیٹھ محنت کش کوئی دل چاہیے عشق تیرا کام ہے تو ہے بغل پرور بہت بس نہیں مجھ ناتواں کا ہائے جو کچھ کرسکوں مدعی پُرچَک سے اس کی پڑ گیا ہے ور بہت سخت کر جی کیونکے یک باری کریں ہم ترک شہر ان گلی کوچوں میں ہم نے کھائے ہیں پتھر بہت دیکھ روے زرد پر بھی میرے آنسو کی ڈھلک اے کہ تونے دیکھی ہے غلطانی گوہر بہت ہم نفس کیا مجھ کو تو رویا کرے ہے روز و شب رہ گئے ہیں مجھ سے کوے یار میں مرکر بہت کم مجھی سے بولنا کم آنکھ مجھ پر کھولنا اب عنایت یار کی رہتی ہے کچھ ایدھر بہت کیا سبب ہے اب مکاں پر جو کوئی پاتا نہیں میر صاحب آگے تو رہتے تھے اپنے گھر بہت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR