Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہے زباں زد جو سکندر ہو چکا لشکر سمیت

ہے زباں زد جو سکندر ہو چکا لشکر سمیت سر بھی اس کا کھپ گیا آخر کو یاں افسر سمیت چشمے آب شور کے نکلا کریں گے واں جہاں رکھیں گے مجھ تلخ کام غم کو چشم تر سمیت ہم اٹھے روتے تو لی گردوں نے پھر راہ گریز بیٹھ جاوے گا یہ ماتم خانہ بام و در سمیت مستی میں شرم گنہ سے میں جو رویا ڈاڑھ مار گر پڑا بے خود ہو واعظ جمعہ کو منبر سمیت بعث اپنا خاک سے ہو گا گر اس شورش کے ساتھ عرش کو سر پر اٹھالیوں گے ہم محشر سمیت کب تلک یوں لوہو پیتے ہاتھ اٹھا کر جان سے وہ کمر کولی میں بھرلی ہم نے کل خنجر سمیت گنج قاروں کا سا یاں کس کے کنے تھا سو تو میر خاک میں ملتا ہے اب تک اپنے مال و زر سمیت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR