Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب

تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب اس آفتاب حسن کے جلوے کی کس کو تاب آنکھیں ادھر کیے سے بھر آتا ہے ووہیں آب اس عمر برق جلوہ کی فرصت بہت ہے کم جو کام پیش آوے تجھے اس میں ہو شتاب غفلت سے ہے غرور تجھے ورنہ ہے بھی کچھ یاں وہ سماں ہے جیسے کہ دیکھے ہے کوئی خواب اس موج خیز دہر نے کس کے اٹھائے ناز کج بھی ہوا نہ خوب کلہ گوشۂ حباب یہ بستیاں اجڑ کے کہیں بستیاں بھی ہیں دل ہو گیا خراب جہاں پھر رہا خراب بیتابیاں بھری ہیں مگر کوٹ کوٹ کر خرقے میں جیسے برق ہمارے ہے اضطراب ٹک دل کے نسخے ہی کو کیا کر مطالعہ اس درس گہ میں حرف ہمارا ہے اک کتاب مجنوں نے ریگ بادیہ سے دل کے غم گنے ہم کیا کریں کہ غم ہیں ہمارے تو بے حساب کاش اس کے روبرو نہ کریں مجھ کو حشر میں کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب شاید کہ ہم کو بوسہ بہ پیغام دست دے پھرتا ہے بیچ میں تو بہت ساغر شراب ہے ان بھوئوں میں خال کا نقطہ دلیل فہم کی ہے سمجھ کے بیت کسو نے یہ انتخاب گذرے ہے میر لوٹتے دن رات آگ میں ہے سوز دل سے زندگی اپنی ہمیں عذاب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR