Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا

پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا سختیاں جو میں بہت کھینچیں سو دل پتھر ہوا گاڑ کر مٹی میں روے عجز کیا ہم ہی موئے خون اس کے رہگذر کی خاک پر اکثر ہوا اب اٹھا جاتا نہیں مجھ پاس پھر ٹک بیٹھ کر گرد اس کے جو پھرا سر کو مرے چکر ہوا کب کھبا جاتا تھا یوں آنکھوں میں جیسا صبح تھا پھول خوش رنگ اور اس کے فرش پر بچھ کر ہوا کیا سنی تم نے نہیں بدحالی فرہاد و قیس کون سا بیمار دل کا آج تک بہتر ہوا کون کرتا ہے طرف مجھ عاشق بیتاب کی صورت خوش جن نے دیکھی اس کی سو اودھر ہوا جل گیا یاقوت اس کے لعل لب جب ہل گئے گوہر خوش آب انداز سخن سے تر ہوا کیا کہوں اب کے جنوں میں گھر کا بھی رہنا گیا کام جو مجھ سے ہوا سو عقل سے باہر ہوا شب نہ کرتا شور اس کوچے میں گر میں جانتا اس کی بے خوابی سے ہنگامہ مرے سر پر ہوا ہووے یارب ان سیہ رو آنکھوں کا خانہ خراب یک نظر کرتے ہی میرے دل میں اس کا گھر ہوا استخواں سب پوست سے سینے کے آتے ہیں نظر عشق میں ان نوخطوں کے میر میں مسطر ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR